محبت میں جو وعدوں کو

محبت میں جو وعدوں کو نبھانا چھور دیتے ہیں
وہ خودغرضی میں گرتے کو اٹھانا چھوڑ دیتے ہیں

خدا آگاہ رکھے جن کو عالم کی حقیقت سے
تو وہ لوگوں کو دانستہ گرانا چھوڑ دیتے ہیں

خدا کے جن بھی بندوں پر خدا کے راز افشا ہوں
تو وہ فانی جہاں میں دل لگانا چھوڑ دیتے ہیں

میسر اپنا ہو جن کو کبھی جو بات کرنے کو
وہ بزمِ دوستاں میں غم سنانا چھوڑ دیتے ہیں

مصیبت کو بھی جو عاشی سمجھتے ہیں رضا رب کی
یونہی وہ آسماں سر پر اٹھانا چھوڑ دیتے ہیں

 

عائشہ قمر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان