الزام گر وہ دیں گے ہمیں بے وفائی کا

الزام گر وہ دیں گے ہمیں بے وفائی کا
ہم طے نہ کر سکیں گے یہ رستہ جدائی کا

ششدر ہوں ان فرعونوں پہ، اور ان بتوں پہ میں
کس طرح کر رہے ہیں یہ دعویٰ خدائی کا

جن سب کو دے رکھا ہے خدا نے خدائی رزق
چکھیں تو کیسے رزق وہ اپنی کمائی کا

چاہت کہ انکے فہم میں خیرات ہی تو تھی
سو ہم نے توڑ ڈالا ہے کاسہ گدائی کا

عاشی کہاں گئے وہ ترے دوستان_شوق
جن سے تھا اشتراک_وفا جاں فدائی کا

 

عائشہ قمر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان