بھلے تھوڑا تھوڑا ہے کر کے تجھ کو بسر کیا

بھلے تھوڑا تھوڑا ہے کر کے تجھ کو بسر کیا
ترے نام سے تری دید تک کا سفر کیا

ترے پاس جتنے بھی بیج آئے اُگے سبھی
جنہیں خاکسار بنا کے تو نے شجر کیا

نئی خوشبوئیں نئے راستے مجھے مل گئے
یہاں کی ہواؤں نے مجھ پہ ایسا اثر کیا

تری گفتگو نے عجب کیا مرا حالِ دل
ترے اشک نے مجھے خوشبوؤں سے تر کیا

تجدید قیصر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے