تھی کس قدر شدید یہ مہر و وفا کی چوٹ

تھی کس قدر شدید یہ مہر و وفا کی چوٹ
سر بچ گیا مگر لگی دل پر بلا کی چوٹ

کتنے گھروں کا نور اندھیروں میں ڑھل گیا
کتنے دیئے بجھا گئی ظالم ہوا کی چوٹ

قتلِ بشر ہوا ہے تو ہے دھیان بات پر
اسے میں کون دیکھے کسی بے نوا کی چوٹ

کیا جانے شہر یار پہ گزرے گی کیسے رات
درد آشنا نہی کہ جو دیکھے بلا کی چوٹ

طلعت نگاہ ناز بھی ناوک سے کم نہی
دیکھو نہ تم بھی آکے دلِ مبتلا کی چوٹ

طلعت سروہا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے