جہاں پہ دوستی ہو اس جگا انائیں کیا

جہاں پہ دوستی ہو اس جگا انائیں کیا
کہے اگر ترے پیروں میں بیٹھ جائیں کیا

جو ناؤ پار گئی لوٹ کر نہیں آتی
جو شخص ڈوب گیا ہو اسے بچائیں کیا

کسی کی یاد میں جاگیں ستارے دیکھیں ہم
سلگ رہا ہے جو سگریٹ اسے بجھائیں کیا

تمہارے بعد کوئی ذخم کیوں کریں تازہ
گزر چکا ہے جو اس پر لہو بہائیں کیا

کسی کی نیند مری نیند کیسے ہو جائے
کسی کے خواب مری آنکھ میں سمائیں کیا

تجدید قیصر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے