باعث آزار ہو جاتے ہیں لوگ

باعث آزار ہو جاتے ہیں لوگ
راہ کی دیوار ہو جاتے ہیں لوگ

عاقل و ہشیار ہو جاتے ہیں لوگ
جب کبھی زردار ہو جاتے ہیں لوگ

عشق ہو جانے سے پہلے سوچ لو
عشق میں بیکار ہو جاتے ہیں لوگ

پہلے سب ہوتے ہیں سادہ اور پھر۔۔
سیکھ کر فنکار ہو جاتے ہیں لوگ

زندگی نعمت خدا کی ہے اگر
اس سے کیوں بے زار ھو جاتے ہیں لوگ

ہم جنھیں آساں سمجھتے ہیں غنی
بس وہی دشوار ہو جاتے ہیں لوگ

غنی الرحمٰن انجم

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا