خوشی مستقل ہے نہ غم

خوشی مستقل ہے نہ غم مستقل
کہانی ہماری نہ ہم مستقل

کسی دن اتر جاٸے گا یہ اثر
چلے گا تمھارا نہ دم مستقل

یوں مشکل نہیں منزلوں تک رساٸی
اگر بڑھتے جاٸیں قدم مستقل

یہ مانا کہ کچھ بھی نہیں مستقل
مگر ھو خدایا کرم مستقل

غنی الرحمٰن انجم

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا