کہاں پہ بولنا ہے

کہاں پہ بولنا ہے چپ کہاں ضروری ہے
ہمارے منہ میں ہماری زباں ضروری ہے

ہم ایسے علم سے قاصر ہیں کہ یہ جان سکیں
کہاں پہ دھوپ کہاں سائباں ضروری ہے

جہاں پہ مجھ کو کڑی دھوپ سے گزرنا ہے
تمہارے پیار کا آنچل وہاں ضروری ہے

اکیلے پن کی اذیّت کے دور کرنے کو
کوئی رفیق کوئی رازداں ضروری ہے

کسی کے پاس اگر کچھ نہیں تو کچھ بھی نہیں
کسی کے واسطے سارا جہاں ضروری ہے

غنی الرحمٰن انجم

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا