ایک بےسود خواہش

میری آ نکھوں کو
انتظار ہے تمھارا
ہر دم ہرپل
میری سانسوں میں
بسیرا ہے تمھارا
اک بار پکار کے تو دیکھو
تمھاری محبت سے
دل آباد ہے میرا
اس دل کو ہر پل
انتظار ہے تمھارا
لوگوں کی بھیڑ میں
دل اکیلا ہے ہمارا
شور میں دل ڈھونڈتا ہے
آواز تمھاری
لاکھوں چہروں میں
ڈھونڈتا ہے چہرہ تمھارا
تم تو دنیا ہو ہماری
آؤ
لوٹ آؤ
انتظار کی گھڑیاں
ختم کردو میری

ماہی رانا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے