کاش سمندر عشق

کاش سمندر عشق میں سہارا دیا ہوتا
آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ دیا ہوتا

دل میرا بھی مانند گل تھا اے ناداں،
پر ڈوبنے سے پہلے دل ہمارا دیا ہوتا

آنکھ میں چھپائے تھے جو سمندر بےوفائی کے
کبھی ڈوبنے سے پہلے ان کا نظارہ دیا ہوتا

آنکھ سے دل میں اتر جانا تو فطرت تھی اس کی
پر بےوفائی کا کوئی تو اشارہ دیا ہوتا

ہم پھر اس کی باتوں میں آجاتے ساغر
گر اس نے دیدار دوبارہ دیا ہوتا

غلام عباس ساغر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی