چائے پانی کو یہاں پر

چائے پانی کو یہاں پر بند لفافے میں ہم نے دیکھا ہے
بند شیشے میں بیٹھے لوگوں کو لیتے دیتے دیکھا ہے

سب کچھ ہے میرے پاس مگر کچھ اور بھی آجائے
حرس و ہوس کے ان مناظر کوچلتے پھرتے دیکھا ہے

کرسی کے نشہ میں یہ ہو جاتے ہیں خونخوار اتنے
عام انسان کوان کے ہاتھوں جاں سے گزرتے دیکھا ہے

فرعون نمرود اور قارون جیسے نا خدائوں کو بھی
ہم نےتباہ ہوکر تاریخ میں نشان عبرت بنتے دیکھا ہے

سیلاب آئے یا طوفان یا زلزلے جیسا کوئی عذاب
نظر آنے کے باوجود ان کو یہاں اندھا بنتے دیکھا ہے

اس دور کا انسان یہ بات بالکل بھول چکا ہے یوسف
مالداروں کو بھی خالی ہاتھ دنیا سے جاتے دیکھا ہے

یوسف برکاتی 

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان