آزادی

جواں قوموں کی آزادی
پیامِ مذہب و ملت سے برتر ہے
جنونِ سرحد و زنجیر سے افضل
کوئی بے خوف لمحہ
جو اطاعت سے نہیں ملتا
مری نسلِ خزاں دیدہ کی آزادی

کسی پیدائشی اندھے کا اک خوابِ مسلسل ہے
کوئی نا آشنا ساعت۔ ۔ ۔
کوئی رسمِ جفا ہے
جو قبولِ عام ٹھہری ہے
مری نسلِ خزاں دیدہ کی آزادی
گرفتہ سوچ کی صورت
کہیں ٹھہرا ہوا پانی۔ ۔ ۔
کہیں تاریک سا شیشہ ۔ ۔ ۔
کہیں بجھتی ہوئی آنکھوں کا بے آواز گریہ ہے
مری نسلِ خزاں دیدہ کی آزادی
بزرگوں سے وراثت میں ملے
خوابوں کا وہ نادر خزینہ ہے
جسے مدت سے ہم صرفِ نظر کر کے
سکوتِ مفلسی میں
بے حس و مایوس پھرتے ہیں

سعید خان 

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے