بے خودی

بے خودی
ہونٹ مصروفِ ثنا
اور خوشبوئیں
احساس پر چھائی ہوئیں
یہ تن بدن کی گرمیاں
یہ رات کا پچھلا پہر
کچھ مت کہو

یہ مستیاں
یہ لذتِ خود رفتگی
یہ جراتِ اظہار کی بے چارگی
یہ نرمیِ احساس کی نازک گھڑی
کچھ مت کہو
ان لرزتی ساعتوں کے جوش میں
اس خلوتِ مدہوش میں
وہ مت کہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جو صبح دم افسوس کا باعث بنے
کچھ مت کہو
کچھ مت کہو

سعید خان 

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا