پائل

اک تُو اک تیری پائل ہے
جینے کے دو ہی بہانے ہیں

کچھ تیری سبھا میں چین بہت
کچھ مست ہیں تیرے نین بہت
مرہم جیسی مسکان تری
کچھ اپنا دل بھی گھائل ہے
اک تُو اک تیری پائل ہے

یہ روپ ترا یہ رنگ ترا
انگارہ ہے ہر انگ ترا
برسے جو تیرے جوبن سے
اس آگ سے بچنا مشکل ہے
اک تُو اک تیری پائل ہے

جب رقص میں تو آ جاتی ہے
ہر شے پھر ناچتی گاتی ہے
جھنکار میں تیری پائل کی
پوجا کا رنگ بھی شامل ہے
اک تُو اک تیری پائل ہے

سعید خان

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا