عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب

عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب
ہواۓ رحم اُتر آۓ بارہا، یا رب

عطا ہوں میرے وطن کو عنایتیں تیری
ملے غریب کو رزق و سکوں سدا، یا رب

بہا کے لے گیا سیلاب جن کی محنت کو
اُنہیں عطا ہو دوبارہ نئی فضا، یا رب

اجڑ چکے ہیں جو گھر موجِ آب کے ہاتھوں
وہ پھر سے سج کے بنیں جنتِ بقا، یا رب

چراغ بجھ گئے امید کے اندھیروں میں
سحر کی لَو سے جلا دے نیا دیا، یا رب

گھروں کا ملبہ پڑا ہے ہر اک گلی میں یہاں
یہ سخت گھڑیاں بدل, کر سکوں عطا، یا رب

مویشیوں کی صدائیں بھی ڈوب کر خاموش
اُجڑ گئی ہے معیشت کی ہر ادا، یا رب

ہزار لغزشیں ہیں، رحم کی نظر فرما
بلا کے وقت میں ہو تیری ہی عطا، یا رب

ہمارے دیس کو محفوظ کر بلاؤں سے
کھلیں خوشی کے نۓ باب ہر جگہ ، یا رب

ثوبیہ راجپوت

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا