دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا

دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا
قیس لیلٰی کا سرِ بزم تماشا نہ بنا

سانس رک جائے گی ، امید اگر ٹوٹ گئی
میری ہستی کو کتابوں کا فسانہ نہ بنا

آتشِ ہجر مجھے خاک بنا سکتی ہے
دور رہنے کا ابھی کوئی ارادہ نہ بنا

وصل کے لمحے فقط خواب ہی رہ جاتے ہیں
میرے ارمان کو دریا کا کنارہ نہ بنا

تیرگی رات کے لمحوں میں اُجالا کر دے
میرے ہر اشک کو تُو قیمتی ہیرا نہ بنا

ثوبیہ ہجر کی ساعت بھی قیامت سی ہے
میری حالت کو مزید اور بُریدہ نہ بنا

ثوبیہ راجپوت

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی