قصیدہ شریف

جہاں کی ضیا میں ہے نورِ محمد ﷺ
خدا کی ہُدیٰ میں ہے نورِ محمد ﷺ

مدینے کا تارا، فلک کا اجالا
جہاں کی بقا میں ہے نورِ محمد ﷺ

فرشتے بھی خوشیاں منانے لگے ہیں
بشر کی ثنا میں ہے نورِ محمد ﷺ

وہی جن کی آمد سے راحت ملی ہے
خدا کی عطا میں ہے نورِ محمد ﷺ

غموں میں سہارا، دعا کا وسیلہ
دلوں کی دوا میں ہے نورِ محمد ﷺ

وہی شمعِ حق ہے وہی ہے سہارا
خطا کی جزا میں ہے نورِ محمد ﷺ

جہالت کے پردے ہٹا کر دکھایا
سحر کی ضیا میں ہے نورِ محمد ﷺ

زمیں آسماں جن و انسان قرباں
ہر اک سو فضا میں ہے نورِ محمد ﷺ

درود و سلامی کے گیتوں میں رَنگیں
ثنا کی صدا میں ہے نورِ محمد ﷺ

محبت سے لکھتی ہے ثوبی قصیدہ
قلم کی ادا میں ہے نورِ محمد ﷺ

ثوبیہ راجپوت

Related posts

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟