ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے

ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے
ہر خواب مجھے چاکِ گریباں سا لگا ہے

لرزاں ہے خموشی بھی شبِ ہجر کے اندر
اک درد ہے، جو چپ کے وسیلے سے کہا ہے

آنگن میں پرانے کسی موسم کی طرح سے
اک لمس بہت دیر تلک مجھ میں رہا ہے

تعبیر کی دہلیز پہ یوں خواب کا بجھنا
سایہ مجھے اپنے ہی مقدر کا لگا ہے

جلتے ہوۓ لمحوں کا جو خاموش سا دکھ ہے
تحریرِ الم میں بھی وہ کچھ کہہ نہ سکا ہے

کچھ لمحے تھے، جو وقت کے زنداں میں سلے تھے
ہر سانس مجھے زہرِ پیالہ سا لگا ہے

ثوبی یہ فسانے تو بہت کہہ لیے ہم نے
جو حرف ہے دل میں ابھی محرومِ نوا ہے

ثوبیہ راجپوت

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان