مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے
شُنیدِ سیدِ عالی وقارﷺ ہو جائے

زبانِ خامہ میں ایماں کی روشنائی ہے
حضورؐ ہدیۂ یک زر نگار ہو جائے

جوازِ لکنتِ کذب و ریا رہے کیونکر
درودِ اسمِ نبی ؐ بے شمار ہو جائے

نہ آسماں کو رہے پھر کوئی غرور کہ جب
زمینِ طیبہ پہ سجدہ گزار ہو جائے

لبوں پہ صلِّ علٰی ہو یہ آرزو ہے زینؔ
مفید وقتِ اجل ہر ضرار ہو جائے

زین علی آصف

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی