اپنے حالات سے ڈر جاتا ہوں

اپنے حالات سے ڈر جاتا ہوں
اب میں برسات سے ڈر جاتا ہوں

تلخی ِوصل ہے دیکھی میں نے
سو ملاقات سے ڈر جاتا ہوں

روگ ہجرت کے نظر آئیں تو
اپنے جذبات سے ڈر جاتا ہوں

تم مرا غم نہ سمیٹو گے کبھی
ایسے خدشات سے ڈر جاتا ہوں

آئنے تجھ سے خفا کب ہوں میں
بس سوالات سے ڈر جاتا ہوں

عاصم ممتاز

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی