جی چاہتے ہوئے بھی پکارا نہیں گیا

جی چاہتے ہوئے بھی پکارا نہیں گیا
تقدیر کے لکھے کو سنوار ا نہیں گیا

جو لمحہ تیری یاد سے خالی ہو جان ِجاں
سہہ لیا وہ ہم نے گزارا نہیں گیا

قسمت میں ڈوبنا تھا سمندر سے کیا گلہ
کشتی سے اپنا بوجھ سہارا نہیں گیا

بادل کہ ہم سفر ہیں شجر ہیں جھکے جھکے
دنیا میں آپ جیسا اتارا نہیں گیا

منظر بدل رہے تھے مرے ساتھ خواب بھی
پھر بھی نظر سے ایک منارا نہیں گیا

عاصم ممتاز

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی