ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے

ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے

قسم ہے تمھارے توجہ بھرے جسم کی
میں ابھی ارتقائی مراحل میں ہوں
جب کبھی
جستجو کا شرارا بجھے گا
زمیں سے ملے گا
سمندر کا دوجا کنارا

اگر گرد بیٹھے تو پردہ اٹھاؤں
خدا کے بدن سے
سنبھالو ابھی کچھ برس اپنے بوسے
مرے ہونٹ
پیچھے کسی جھیل پر رہ گئے ہیں

ابھی وقت کم ہے
زمیں کاٹ لی ہے
فلک بانٹ کر
کچھ ستاروں کو مٹھی میں لینا ہے
دو چار جنگوں کی دوری پہ ہیں
وصل کی کائناتیں

ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے
چراغوں کی لو اپنے سینے کی ڈھلوان میں
روک رکھو

میں زرا
یہ بقا کی پہاڑی اتر لوں
تو ملتا ہوں تم سے

منیر جعفری

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

1 تبصرہ

عادل وِرد جنوری 19, 2020 - 2:12 شام
واہ. پیاری نظم ہے
Add Comment