پُرخطر وادی سے میرا راستہ رکھا گیا

پُرخطر وادی سے میرا راستہ رکھا گیا
میرے رستے میں بھیانک حادثہ رکھا گیا

دیکھ کر جس کو بدل جاتے ہیں بگڑے خدوخال
سامنے اندھوں کے ایسا آئینہ رکھا گیا

اپنی باتوں سے نمایاں خود کو وہ کرتے رہے
گفتگو میں میرا بھی کچھ تذکرہ رکھا گیا

خود نئی تحقیق سے ہوتے رہے وہ مستفید
سامنے میرے پرانا فلسفہ رکھا گیا

رشوتوں کے مال کو تقسیم کرنے کے لئے
دیکھو اک رشوت شطانی محکمہ رکھا گیا

نیند کے غلبے میں آئے دیکھ لو مسند نشیں
حل کی خاطر سامنے جب مسئلہ رکھا گیا

قصرِ سلطانی میں صابرؔ دب گئی ہیں سسکیاں
قہقہوں کے واسطے اک مسخرہ رکھا گیا

ایوب صابر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان