اب آستیں میں اپنی کوٸی مار نہیں ہے

اب آستیں میں اپنی کوٸی مار نہیں ہے
خوش بخت ہوں کہ میرا کوٸی یار نہیں ہے

سب اپنے مفادات کی خاطر ہیں پریشاں
اس ملک سے اب کوٸی وفادار نہیں ہے

ہم مانتے ہیں چور محافظ سے ملے ہیں
گھر والوں سے بھی تو کوٸی بیدار نہیں ہے

کس کو سناٸیں داستاں اپنی تباہی کی
شُنواٸی کو تو اب کوٸی دربار نہیں ہے

کس نے کیا ہے میرے سپاہی کو تہی دست
کہ ہاتھ میں اب تیر یا تلوار نہیں ہے

سرجُھک گیا جو غیر کی چوکھٹ پہ ترا وہ
کندھوں پہ رکھا قابلِ دستار نہیں ہے

یہ ملک زبوں حالی سے دو چار ہے عاجز
اور کہتے ہو کہ کوٸی بھی غدار نہیں ہے

 

ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا