روشنی کے لیے گھر جلاٸیں گے ہم

روشنی کے لیے گھر جلاٸیں گے ہم
تیرگی تجھ کو شعلہ دکھاٸیں گے ہم

ہم تو سقراط ٹھہرے ہیں اس دور کے
زہر پینے سے نہ ہچکچاٸیں گے ہم

ہم الگ کر دکھاٸیں گے کھوٹا کھرا
جھوٹ کو سچ کبھی نا بناٸیں گے ہم

جو اُجاڑا ہے تُو نے چمن دیکھنا
اُس کو پہلے سے بہتر سجاٸیں گے ہم

جو لُٹیرے چُپھے ہیں وطن لوٹ کے
اُن کو پاتال سے کھینچ لاٸیں گے ہم

میلی آنکھوں سے دیکھےگا دشمن اگر
اپنی جاں بھی وطن پہ لُٹاٸیں گے ہم

ملک اپنا سدا جگمگاتا رہے
لَو دیے کی لہو سے بڑھاٸیں گے ہم

 

ڈاکٹر محمدالیاس عاجز

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا