آپ بیتی کوئی سمجھے

آپ بیتی کوئی سمجھے تو بتاؤں میں بھی
مجھ کو سننا کوئی چاہے تو سناؤں میں بھی

میری آنکھیں ہی سہارا نہیں دیتیں ورنہ
چاہتی ہوں تری تصویر بناؤں میں بھی

تو کہ مصروف ہے دنیا کی پریشانی میں
تجھ کو کس منہ سے پریشانی بتاؤں میں بھی

ہجر کی دھوپ ترا جسم جلائے کب تک
تیری امید کے پردوں کو ہٹاؤں میں بھی

یہ تو اب قوت گویائی نہیں ہے ورنہ
تیری آواز میں آواز ملاؤں میں بھی

ہمانشی بابرا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے