سب مجھے تیرا طلبگار

سب مجھے تیرا طلبگار سمجھتے ہوں گے
یہ بھی ممکن ہے کہ ہر بار سمجھتے ہوں گے

وہ جو بھرتا تھا تری یاد کی تصویر میں رنگ
لوگ اس شخص کو بیکار سمجھتے ہوں گے

جو مرا درد بڑھانے کے لیے آتا تھا
شہر والے اسے غم خوار سمجھتے ہوں گے

اتنا خوش ہو کے کوئی مجھ سے ملا کرتا تھا
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہوں گے

ہمانشی بابرا 

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا