میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا

میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا
لوٹ کے آیا نہیں چھوڑ کے جانے والا

جانے کس موڑ پہ لے آئی محبت مجھ کو
یاد آتا ہے بہت یاد نہ آنے والا

پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے
تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ تو زمانے والا

مدتیں بیت گئیں راہ میں بیٹھی ہوئی ہے
شہر سے جا بھی چکا شہر سے جانے والا

ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی دعا کرتا ہے
ہر ملاقات پہ منہ پھیر کے جانے والا

ہمانشی بابرا 

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے