ساتھ دینے کا دلایا

ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسہ تو نے
اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے

اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے
میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے

ہائے افسوس تجھے اب بھی یہ معلوم نہیں
زندگی میری بنا دی ہے تماشہ تو نے

جیسے تیسے میں بنا روئے چلی جاتی مگر
کس لیے دیکھ لیا مڑ کے دوبارہ تو نے

بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی
آج تو روح پہ مارا ہے طمانچہ تو نے

ہمانشی بابرا

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے