میں جیسے تیسے کر کے

میں جیسے تیسے کر کے آ گیا اک آدھ سے آگے
نکل سکتا نہیں لیکن تری ہر یاد سے آگے

مرا بھی خواب ہے دنیا تمہارے ساتھ دیکھوں میں
قدم بڑھتے نہیں لیکن مرادآباد سے آگے

مجھے تو تیری بربادی بھی بربادی نہیں لگتی
کہ میں نے وہ بھی دیکھا ہے جو ہے برباد سے آگے

جہاں جاؤں مرا غم ساتھ جائے گا مرے یوں ہی
نکل پایا ہے کیا کوئی کبھی اولاد سے آگے

ہمانشی بابرا

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا