خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامحترمہ دعا کی جدوجہد اور قربانی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزانور علی

محترمہ دعا کی جدوجہد اور قربانی

از انور علی مارچ 15, 2025
از انور علی مارچ 15, 2025 0 تبصرے 60 مناظر
61

آج میں ایک ایسی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے تیار راستوں پر چلنے کے بجائے اپنا راستہ خود چنا۔ نہ صرف اپنے لیے راہ ہموار کی بلکہ اپنے پورے خاندان کے لیے بھی ایک نیا راستہ اختیار کیا اور اپنے بچوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ میں کچھ ایسی باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں جو شاید اُنہیں یا اُن کے خاندان کو بھی معلوم نہ ہوں کہ میں ان سے کتنا متاثر ہوا ہوں۔

یہ تقریباً 2009 کا واقعہ ہے۔ میں اُس وقت آر ای سی کنسلٹنٹ میں کام کر رہا تھا، اور میری زندگی پرسکون انداز میں گزر رہی تھی۔ وہاں کچھ دوستوں نے سعودی عرب میں نوکری کے لیے درخواست دی اور میرا سی وی بھی بھیج دیا۔ جلد ہی میرا انتخاب ہو گیا، لیکن بدقسمتی سے میں میڈیکل ٹیسٹ میں ناکام ہو گیا، جبکہ باقی گیارہ انجینئرز سعودی عرب چلے گئے۔
یہ واقعہ میرے دل و دماغ پر بہت اثر انداز ہوا، اور میں شدید مایوسی کا شکار ہو گیا۔ جب میں اپنے گاؤں واپس آیا، تو بیماری کے باعث بستر سے لگ گیا۔ مجھے کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہا، اور میرے اہلِ خانہ جو مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے، شدید پریشان ہو گئے۔
میرا تعلق ایک غیر تعلیمیافتہ خاندان سے تھا، جہاں علم کی اہمیت پہلے ہی کم تھی، اور رسم و رواج کا شعور بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ لوگوں کے مشورے پر میرے گھر والے مجھے مختلف پیروں، درگاہوں اور عاملوں کے پاس لے جانے لگے۔ دیہات کے سادہ لوح لوگ لاعلمی کی وجہ سے مختلف تعویذ، دم درود اور جھاڑ پھونک کرواتے ہیں، وہ سب کچھ مجھ پر بھی آزمایا گیا۔
جب یہ خبر ڈاکٹر محمد شیخ تک پہنچی، تو انہوں نے میرا علاج لاڑکانہ کے ایک معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر رحمت واگن سے کروایا۔ یہ لمحے میری زندگی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئے۔
اس دوران میرے دوست منصور میر اریجو، جو کبھی میرے کرکٹ کے ساتھی تھے، میری حالت دیکھ کر فرشتہ صفت مددگار بنے۔ جب میرے اپنے گھر والے مجھے پاگل سمجھنے لگے، تو ان دو شخصیات نے میرا ساتھ دیا اور مجھے سہارا دیا — یہ وہ احسان ہے جسے میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔
ڈاکٹر کے علاج سے میری حالت چھ ماہ کے اندر کافی بہتر ہو گئی۔ اس عرصے میں، میں نے رات کو تہجد پڑھنا شروع کر دیا، اور اللہ کا ذکر میرے دل و جان کا حصہ بن گیا۔ میرے گھر والے حیران تھے کہ یہ کون سی نماز ہے جو میں رات کو پڑھتا ہوں، کیونکہ وہ دین اور دنیا، دونوں سے ناواقف تھے۔

میرا سی وی پہلے ہی ایم ایم پی کمپنی میں جمع تھا، اور اگست 2009 میں مجھے آر بی او ڈی پروجیکٹ (مکلی، ٹھٹھہ) میں نوکری مل گئی۔ وہاں کا ماحول اچھا تھا، اور مجھے نئے دوست بنانے کا موقع ملا۔
میرے روم میٹ ایک بزرگ سروئیر محمد پھول تھے، جو ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر ذاکر نائیک اور حامد میر کے پروگرام دیکھتے تھے۔ شروع میں یہ سب کچھ مجھے عجیب سا لگتا تھا، کیونکہ میں بچپن سے بالی ووڈ فلموں، گانوں اور کرکٹ کا شوقین تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ، ان پروگرامز میں میری دلچسپی بڑھنے لگی۔
اسی دوران، میرے ایک اور دوست ندیم (جو کراچی کے اردو اسپیکر تھے) نے میری پڑھنے کی عادت کو دیکھتے ہوئے مجھے مختلف اسلامی کتابیں لا کر دینا شروع کیں۔
جب مجھے نماز میں ضروری سورتیں یاد کرنے میں دشواری ہوئی، تو میں نے عابد میمن سے بات کی، جس پر انہوں نے مجھے تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت گزارنے کا مشورہ دیا تاکہ سیکھنے کا موقع مل سکے۔ میں نے نور مسجد سے پہلی بار تین دن تبلیغ میں گزارے، اور مکلی میں مختلف اجتماعات میں شرکت کرتا رہا۔ اس دوران میں نے بہت سی تسبیحات، سورتیں اور درود شریف سیکھے — وہ سب کچھ جو میرے لیے بالکل نیا تھا۔
لوگ کہتے ہیں کہ تبلیغی لوگ اچھے نہیں ہوتے — واللہ اعلم (اللہ بہتر جانتا ہے) — مجھے ان باتوں سے کوئی سروکار نہ تھا؛ میرا مقصد صرف سیکھنا تھا۔
بعد میں جب میں نے اپنے گاؤں کی مسجد کی خستہ حالت اور وہاں حافظِ قرآن کی کمی دیکھی، تو میں نے سائیں مٹھو اریجو صاحب کے ساتھ مل کر ایک حافظ صاحب کا انتظام کیا۔ اس وقت میرے والد، اللہ انہیں جنت عطا کرے، سعودی عرب میں کام کر رہے تھے، میرے چچا بھی وہیں تھے۔ میں نے ان سے مالی مدد کی درخواست کی، جس پر انہوں نے کچھ رقم بھیجی، جس سے ہم نے مسجد کی مرمت کروائی۔
جلد ہی، میرے اپنے گاؤں کے کئی دوست کہنے لگے، "سنا ہے تم مولوی بن گئے ہو!” کچھ نے کہا، "تم وہابی ہو گئے ہو!”
یہ تو عام بات ہے — جب بھی کوئی شخص نیکی کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے، تو شیطان اسے لوگوں کے ذریعے بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن میں نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی۔
تھوڑی ہی مدت میں، میرے اپنے خاندان کے 10-11 بچے قرآن پڑھنے لگے۔ آج وہ سب ناظرہ قرآن مکمل کر چکے ہیں، جو ہمارے لیے ایک بڑی نعمت ہے، اور محلے کے دوسرے بچے بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ایک دن، جب میں نے مکلی کی اسٹیل کالونی مسجد میں نماز ادا کی، تو مجھے اے ایل سی (امریکن لینگویج سینٹر) کا ایک پمفلٹ ملا۔ میرے دل میں خیال آیا: کیوں نہ اپنے فارغ وقت کا اچھا استعمال کروں؟ میں نے ان کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں میری ملاقات محترمہ افراح سے ہوئی۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد، میں نے کمپیوٹر کلاسز میں داخلہ لے لیا اور ساتھ ہی انگریزی سیکھنے کی کلاسز بھی شروع کر دیں۔
ایک دن، گفتگو کے دوران، میں نے محترمہ دعا سے اُن کی جدوجہد اور سینٹر کے قیام کی کہانی پوچھی
تعلیم: انہوں نے بی اے، بی ایڈ، ایم اے، اور ایم ایڈ کیا ہے۔
عمر: 61 سال۔
وہ ایک محنتی عورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گھریلو خاتون بھی رہیں، اور انہوں نے اپنے چار بچوں کی پرورش کی، جو اسی اسکول میں پڑھے جہاں وہ ایڈمنسٹریٹر تھیں۔ انہوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔ شادی کے بعد بھی، گھر اور سسرال کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے، انہوں نے اپنی ماسٹرز کی تعلیم مکمل کی۔
انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ جہاں بھی گئیں، اکثر وہ واحد عورت ہوتی تھیں، اور لوگ اس کے بارے میں باتیں کرتے تھے۔
ابتداء میں، ان کا خواب تھا کہ وہ ایک عورت کے طور پر اپنی زندگی میں کامیاب ہوں، کیونکہ وہ ایک مضبوط عورت کی بیٹی تھیں۔ لیکن پھر، ان کا خواب اپنے بچوں کے لیے بدل گیا۔ انہوں نے دن رات محنت کی، اوور ٹائم بھی کیا، تاکہ اپنے بچوں کی ضروریات پوری کر سکیں۔
اپنے بچوں کے لیے اسکول قائم کرنے کے ساتھ ساتھ، انہوں نے شام کے وقت ایک لرننگ سینٹر بھی شروع کیا، جہاں طالب علم انگریزی زبان سیکھتے تھے۔ اس وقت، وہ صرف اپنے بچوں کے لیے نہیں بلکہ ٹھٹھہ شہر کے بچوں کے لیے بھی کام کر رہی تھیں۔ اس سینٹر میں بہت سے طالب علم پڑھنے آئے، اور ان کی زندگیاں سنور گئیں۔ وہ خواب دیکھتی تھیں کہ یہ طالب علم علم حاصل کر کے اعتماد کے ساتھ دنیا کا سامنا کر سکیں۔
ان کی کہانی نے مجھے بے حد متاثر کیا
اور میرے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا کیا۔
2004 میں، مجھے ٹھٹھہ کے ایک انجینئر سلیم انڑ صاحب سے ملنے کا موقع ملا، جنہوں نے کہا تھا:
"میں نے اپنی ساری کمائی اپنے بھائیوں کی تعلیم پر لگا دی، اور آج وہی میری سب سے بڑی دولت ہے۔”
جب میں 2009 میں ان سے دوبارہ ملا، تو میں نے ان کے پورے خاندان کو پڑھا لکھا اور خوشحال دیکھا۔ کتابیں پڑھنے کے مقابلے میں حقیقی زندگی کی کامیاب کہانیاں کہیں زیادہ اثر رکھتی ہیں۔
محترمہ دعا اور سلیم صاحب سے متاثر ہو کر، میں نے اپنے بھتیجوں اور بھانجوں کی تعلیم کا بیڑا اٹھایا، اور جلد ہی ہمارے گاؤں میں ہمارا خاندان تعلیم یافتہ خاندان کے طور پر پہچانا جانے لگا۔
جب مجھے محسوس ہوا کہ میرا مشن کامیاب ہو رہا ہے، تو میں نے اپنا دائرہ کار بڑھایا:
پہلے خود کو بہتر بنایا، پھر اپنے گھر کو، اور آخر کار اپنے محلے کو۔
2022 میں، میں نے ایک فاؤنڈیشن قائم کی، جس کا نام گروئنگ ونگز فاؤنڈیشن رکھا، تاکہ اس مشن کو جاری رکھا جا سکے — انسانیت کی خدمت کے اس سفر کو جو میں نے تعلیم کے ذریعے شروع کیا تھا۔
یہ کہانی ہے کہ میں نے اپنی زندگی کو کیسے بدلا اور دوسروں کی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کی، محترمہ دعا جیسے بے لوث افراد سے متاثر ہو کر۔ اللہ ہماری یہ عاجزانہ کوششیں قبول فرمائے۔
مکلی ٹھٹہ سے میری ایسی جذباتی یادیں جُڑی ہوئی ہیں، جو آج تک میرے دل میں تازہ ہیں۔ وہاں میں نے دینی تعلیم حاصل کی، کمپیوٹر میں CIT اور انگلش سیکھی۔ ان سب چیزوں کے ساتھ، مجھے وہاں سے ایک عظیم مقصد کا راستہ ملا، جو ہمیشہ میری نظر میں اُس جگہ اور وہاں جُڑے لوگوں کو عزت اور احترام کے قابل بناتا ہے۔
2011 کے بعد میرا تبادلہ ہوا اور میں ہیڈ جمہڑاؤ پہنچا، جہاں ایک پروجیکٹ میں منتخب ہوا اور بین الاقوامی لوگوں، غیر ملکی افراد کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ سب اللہ پاک کے کرم، اساتذہ کی محنت اور میری جدوجہد کی بدولت ممکن ہوا۔
یہ خراجِ تحسین خاص طور پر محترمہ دعا صاحبہ کے لیے ہے۔ آج اتنا بڑا آرٹیکل لکھنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ ایک تو میری اور میڈم کی سالگرہ ایک ہی دن، یعنی 15 مارچ کو آتی ہے، جو ہم نے سینٹر کے دوران بھی ایک ساتھ منائی تھی۔ میرے تبادلے کے بعد، میں ہر سال ایک بار ضرور انہیں فون کرتا ہوں، خاص طور پر 15 مارچ کو۔
آج میں نے سوچا کہ میڈم کو سالگرہ کی مبارکباد دوں اور ان کے خاندان اور ایجوکیشن سینٹر سے حاصل کیے گئے اسباق کا شکریہ ادا کروں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر سندھ میں ایسے استاد ہوں، تو پورا تعلیمی نظام بدل سکتا ہے۔ اللہ پاک میڈم اور ان کے پورے خاندان کو خوش رکھے۔
نیک دعاؤں کے ساتھ:
(15 مارچ، جنم دن مبارک 🎂🎉🎁)

انور علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یوم مزدور
  • طاقچے میں پڑی ہوئی آنکھیں
  • آنکھ میں مقدارِ خوش بینی زیادہ کیجیے
  • میگها رت کی رات، خموشی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
انور علی

اگلی پوسٹ
پٹھانے خان
پچھلی پوسٹ
مذہب کی اصل روح

متعلقہ پوسٹس

روشنی

دسمبر 10, 2019

ذرا سی دیر ٹھہر کر سوال کرتے ہیں

مئی 9, 2020

شام کی بارش

مارچ 6, 2023

یومِ آزادی اور ہم

اگست 15, 2020

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

جنوری 2, 2020

ایمنسٹی کی رپورٹ: مبالغہ یا حقیقت؟

ستمبر 10, 2025

آصف نے کہا

نومبر 14, 2019

اکیسویں صدی کا عشق

دسمبر 30, 2019

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

اپریل 14, 2021

رازکی بات ہے کسی کو بتایئے گا نہیں

ستمبر 1, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

شہباز خواجہ شاعری

جون 22, 2026

ماتم

جون 22, 2026

ہجر

جون 22, 2026

جستجو

جون 22, 2026

واپسی

جون 22, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

21 شہادتیں اور ایک قوم کی آنکھوں میں...

جون 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • واپسی

    جون 22, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خوش تھا وہ مجھ کو دربدر...

مارچ 26, 2020

سایہ در غبارِ شام

فروری 8, 2025

تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن

جنوری 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں