ہِراس ظلمتِ شب کا بِکھرنے والا ہے

ہِراس ظلمتِ شب کا بِکھرنے والا ہے
فلک کے ماتھے پہ سورج ابھرنے والا ہے

جو حرفِ راز زباں سے نکل گیا اپنی
کہاں وہ ایک بشر تک ٹھہرنے والا ہے

براجمان تھا مدت سے تختِ دل پر جو
وہ شخص اب مِرے دل سے اترنے والا ہے

پرانے گھر کی کچھ اینٹیں نکال کر مفلس
نئے مکان کی تعمیر کرنے والا ہے

مِری نِگہ ہے درِ اہلِ درد پر مرکوز
مِری حیات کا چہرہ سنورنے والا ہے

حِصار باندھ رکھا ہے حسد نے اس کے گرد
وہ اپنی آگ میں خود جَل کے مرنے والا ہے

زبیر خیالی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے