حالات نے ذرا بھی سنورنے نہیں دیا

حالات نے ذرا بھی سنورنے نہیں دیا
کوئی بھی کام ڈھنگ سے کرنے نہیں دیا

محفوظ ہیں نگاہ میں اب بھی اٌسی طرح
چاہت کا کوئی لمحہ بکھرنے نہیں دیا

افلاس کے عمیق سمندر نے دوستو
مجھ کو ڈبویا یوں کہ ابھرنے نہیں دیا

رکھتا ہوں طیش میں بھی مقابل کی آبرو
خود کو کبھی بھی حد سے گزرنے نہیں دیا

کچھ عزم ہیں خیالی ادھورے پڑے ہوئے
مجھ کو اِسی خیال نے مرنے نہیں دیا

زبیر خیالی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا