منزلِ نَو نظر میں رہتی ہے
زندگانی سفر میں رہتی ہے
کوچ جس دن سے کرگیا ہے تو
بے قراری سی گھر میں رہتی ہے
یہ سنا کرتا تھا مَیں بچپن میں
ایک بڑھیا قمر میں رہتی ہے
خوف کھاتا ہے جو تلاطم سے
ناؤ اس کی بھنور میں رہتی ہے
فن پہ چاہے عبور ہو حاصل
ایک خامی ہنر میں رہتی ہے
بخت کی تیرگی خیالی اب
جستجوئے سحر میں رہتی ہے
زبیر خیالی