ناتوانی راستے کی فکر تھی
آدمی تھا ، حوصلے کی فکر تھی
سود مندی کا فقط وہ ڈھیر تھا
اس کو اپنے فائدے کی فکر تھی
سر جھکائے شرم سے بیٹھا رہا
نوجواں کو فیصلے کی فکر تھی
مَیں حدِ امکاں سے آگے بڑھ گیا
دوستوں کو دائرے کی فکر تھی
وہ فقط اپنے لئے سرگرم تھا
اور مجھ کو قافلے کی فکر تھی
دوست سر کی چوٹ سے بے ہوش تھا
ذہن و دل میں حافظے کی فکر تھی
رابطہ ان سے خیالی کٹ گیا
جن سے مجھ کو رابطے کی فکر تھی
زبیر خیالی