زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

تمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیا

تباہ کر گیا اک لمحۂ خراب مجھے

کہ میں نے حلقۂ آوارگاں کو چھوڑ دیا

کہیں پناہ نہیں ملتی لمحہ بھر کے لیے

کہ جب سے محفل دل دادگاں کو چھوڑ دیا

بس ایک کنج خس و خاک میں سکون ملا

سو میں نے حلقۂ سیارگاں کو چھوڑ دیا

تمہارے بعد گزشتہ رہا نہ حال رہا

سو دل نے خدشۂ آئندگاں کو چھوڑ دیا

فہیم شناس کاظمی 

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے