وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ

وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ
جو غم پروتے ہوۓ آخرش جوان ہوۓ

وہ جن کو ٹھوکریں ملتی گئیں زمانے سے
وہ اپنی ذات کا خود آپ سائبان ہوۓ

ہماری نیند سراسیمگی کی نذر ہوئی
ہمارے خواب کسی مصلحت کی جان ہوۓ

تمہی کو ہم نے بٹھایا تھا مسندِ دل پر
تمہی کو چاہ کے دنیا میں لامکان ہوۓ

شبِ فراق خبر تھی کہاں کہ بچھڑیں گے
ہمارے آخری لمحے تو شادمان ہوۓ

جوان نسل کو دیوار سے لگا بیٹھے
وہ فیصلے جو بزرگوں کے درمیان ہوۓ

 

شہزین وفا فراز

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا