یوں بھی کمال کیجیے

یوں بھی کمال کیجیے اک گھر بنائیے
دیوار و در کی قید سے باہر بنائیے

اب وہ چلا گیا ہے تو دِن رات بیٹھ کر
اُس کی مِثال کا کوئی پیکر بنائیے

ایسا بھی کُچھ تو ہو کہ جو دل کو لُبھا سکے
آنکھیں جو چاہتی ہیں وہ منظر بنائیے

پھر ہاتھ بھی نہ آۓ گی یہ مختصر حیات
جتنا بھی ہو سکے ، اسے بہتر بنائیے

وہ مِل نہیں رہا ہمیں کوشش کے باوجود
کِس طرح خود کو زیست کا خُوگر بنائیے

جو شے بهی آپ سے کبهی بنتی نہیں اثر
خواب و خیال میں اُسے اکثر بنائیے

عدنان اثر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے