ہم اک پری کی محبت میں

ہم اک پری کی محبت میں مبتلا هو کر
ہوئے ہیں قید کسی گمشدہ جزیرے پر

تو میں یہ سمجھوں کہ رستہ بھٹک گیا هو گا
اگر وہ شام کو بھی لوٹ کر نہ آیا گھر

بہت سے لوگ تو خود کو خدا سمجھتے تھے
مگر کسی کے بھی آگے نہیں جھکایا سر

وہ ایک رات ترے ہجر کی وہ پہلی رات
طویل اتنی تھی جیسے ہو عرصہء محشر

کسی کے خواب سے منسوب ہے یہ بینائی
میں پھوڑ دوں گا یہ آنکھیں بصورت دیگر

عدنان اثر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے