یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
کہیں ہم نے پتہ پایا نہ ہر گز آج تک تیرا
صفات و ذات میں یکتا ہے تو اے واحد مطلق
نہ کوئی تیرا ثانی کوئی مشترک تیرا
جمال احمد و یوسف کو رونق تو نے بخشی ہے
ملاحت تجھ سے شیریں حسن شیریں میں نمک تیرا
ترے فیض و کرم سے نار و نور آپس میں یکدل ہیں
ثنا گر یک زبان ہر ایک ہے جن و ملک تیرا
نہ جلتا طور کیونکر کس طرح موسی نہ غش کھاتے
کہاں یہ تاب و طاقت جلوہ دیکھئے مر دیک تیرا
دعا یہ ہے کہ وقت مرگ اسکی مشکل آساں ہو
زباں پر داغ کے نام آئے یا رب یک بہ یک تیرا

داغ دہلوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے