جہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلا

جہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلا
پڑی آنکھ جس کوہ پر طور نکلا
یہ سمجھے تھے ہم ایک چرکہ ہے دل پر
دبا کر جو دیکھا تو ناسور نکلا
نہ نکلا کوئی بات کا اپنی پورا
مگر ایک نکلا تو منصور نکلا
وجود و عدم دونوں گھر پاس نکلے
نہ یہ دور نکلا نہ وہ دور نکلا
سمجھتے تھے ہم داغ گمنام ہو گا
مگر وہ تو عالم میں مشہور نکلا

داغ دہلوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے