یہ جو زہر ہے ترے قرب کا

یہ جو زہر ہے ترے قرب کا مرے روم روم اتار دے
مری داستان ہو معتبر مجھے اپنے عشق میں مار دے

کبھی اپنے جسم کو مے بنا مجھے قطرہ قطرہ پلائے جا
مری آنکھ روز جزا کھلے کوئی اس طرح کا خمار دے

تری نسبتوں سے جڑا رہوں ترے راستوں میں پڑا رہوں
کوئی ایسی حسرت بے بہا مری دھڑکنوں سے گزار دے

مرے دوستا مرے کبریا مری لغزشوں سے ہو درگزر
مری پستیوں کو عروج دے مرے اجڑے دل کو سنوار دے

مری آرزؤں کے سیپ کا کسی آب نیساں سے میل کر
مجھے آشنائے وصال کر مری بیکلی کو قرار دے

یہی اپنے شوق سے کہہ دیا کبھی ایک پل نہیں سوچنا
جہاں نقش پا ملے یار کا یہ متاع جاں وہیں وار دے

خالد ندیم شانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے