یہ جو ہو جانے کے احساس سے

یہ جو ہو جانے کے احساس سے ہم ڈر رہے ہیں
فقط اس جسم سے پھیلے خلا کو بھر رہے ہیں

زمیں پیروں کے نیچے سے سرکتی جارہی ہے
سو اب ہم خود بھی چلنے سے کنارہ کر رہے ہیں

نہیں دیکھا کسی جانب بھی نظروں کو اٹھا کر
ہماری آنکھ کے آگے کئی منظر رہے ہیں

گزاریں گے نئی دنیا میں تیرے ساتھ شامیں
یہاں کافی ہے تیرے ساتھ لمحہ بھر رہے ہیں

وہ جس کے دیکھنے سے ساری گرہیں کھل رہی تھیں
اک ایسی آنکھ میں ہم بھی علی کوثر رہے ہیں

علی کوثر

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں