تیرے ہونے سے سبھی رنگ زمیں پر اترے

تیرے ہونے سے سبھی رنگ زمیں پر اترے
تتلیاں، پھول، پرندے بھی یہیں پر اترے

وہ اترتا ہے میرے دل پہ یونہی شام ڈھلے
جس طرح کوئی گماں میرے یقیں پر اترے

برق رفتاری سے چلتی ہے جہاں بادِ فنا
میرے سب خواب کم و بیش وہیں پر اترے

جس کی رنگت سے دہل جاتے ہیں سب جلتے چراغ
رنگ ایسا بھی کبھی دل کے مکیں پر اترے

میری آنکھوں پہ ابھرتے ہوئے منظر کی قسم
سارے منظر تیری رخشندہ جبیں پر اترے

علی کوثر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا