کار دنیا سے یا اس کار زیاں سے آگے

کار دنیا سے یا اس کار زیاں سے آگے
کوئی رستہ کوئی پگڈنڈی یہاں سے آگے

میرے الفاظ سے کھلتی نہیں اس پر میری بات
چاہیے ذریعہ ترسیل زبان سے آگے

اک یقیں لے کے چلا مجھ کو یقیں کے پیچھے
اک گماں مجھ کو چلا لے کے گماں سے آگے

میں نے تصویر کیا ہے جسے احساس کے ساتھ
وہ جہاں ہے تیری تصویر جہاں سے آگے

اک دیا جلتا ہے سینے کے نہاں خانے میں
اور ہوا چلتی ہے اس دار نہاں سے آگے

علی کوثر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل