کرب کی زنجیر سے

کرب کی زنجیر سے ایک دن رہا ہو جائیں گے
سارے منظر سارے چہرے سب فنا ہو جائیں گے

زندگی تیرے ستم سے تنگ آ جائیں گے ہم
اور اک دن اپنے اندر لاپتا ہو جائیں گے

اپنے ہونے کا یقین جس دن ہمیں ہو جائے گا
تیرے ہونے سے بھی اس دن آشنا ہو جائیں گے

ڈرتے ڈرتے آنکھ منظر تو بنا لے گی مگر
دیکھتے ہی دیکھتے سب بدنما ہو جائیں گے

چیخنے والوں کو ایک درویش نے پر سا دیا
دیکھنا ایک دن یہ سب نالے رسا ہو جائیں گے

علی کوثر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی