کوئی یقین نہ رکھتا فقط گماں رکھتا

کوئی یقین نہ رکھتا فقط گماں رکھتا
میں اپنے سارے مناظر دھواں دھواں رکھتا

خدا کا شکر کہ سینہ مجھے میسر تھا
وگرنہ دل کے پرندے کو میں کہاں رکھتا

میرے شعور میں ڈھیروں چراغ جل اٹھتے
تیرے خیال کے پرتو کو میں جہاں رکھتا

تیرے حضور میں آ کر یہ سوچتا ہوں میں
کہ لفظ چھوڑ کے آتا فقط فغاں رکھتا

یہ رائیگانی تھی سو اس لئے علی کوثر
مجھے یہ زیب تھا میں خود کو رائیگاں رکھتا

علی کوثر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل