یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں

ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں

کسی کسی کو ہے تہذیب دشت آرائی

کئی تو خاک اڑاتے ہوئے نکلتے ہیں

یہاں رواج ہے زندہ جلا دیے جائیں

وہ لوگ جن کے گھروں سے دیے نکلتے ہیں

عجیب دشت ہے دل بھی جہاں سے جاتے ہوئے

وہ خوش ہیں جیسے کسی باغ سے نکلتے ہیں

یہ لوگ سو رہے ہوں گے جبھی تو آج تلک

ظروف خاک سے خوابوں بھرے نکلتے ہیں

ستارے دیکھ کے خوش ہوں کہ روز میری طرح

جو کھو گئے ہیں انہیں ڈھونڈنے نکلتے ہیں

ادریس بابر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

1 تبصرہ

طارق اقبال حاوی اپریل 11, 2020 - 12:20 شام
بہترین کلام
Add Comment