یاد ہم دشت نوردوں کی نشانی رکھنا

یاد ہم دشت نوردوں کی نشانی رکھنا
آبلے پاؤں میں اور آنکھ میں پانی رکھنا

اب تو زندان میں رک رک کے ہوا آتی ہے
سخت مشکل ہے تنفس میں روانی رکھنا

ہر پڑاؤ پہ یاں منزل کا گماں ہوتا ہے
اپنی فطرت میں سدا نقل مکانی رکھنا

سب کہانی نہیں کردار بھی کچھ دیکھتے ہیں
سامنے سب کے نہ تم اپنی کہانی رکھنا

عشق کا بوجھ بھی ہم سر سے اتار آئے ہیں
اپنے بس میں ہی نہیں تھا یہ گرانی رکھنا

صدیق صائب

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے