گرتی دیوار کو یا ٹو ٹتے در کو دیکھوں

گرتی دیوار کو یا ٹو ٹتے در کو دیکھوں
کیسے لٹتے ہوئے میں اپنے ہی گھر کو دیکھوں

اب مجھے جان بچانی ہے کہ اجداد کی آن
گہے دستار کو دیکھوں گہے سر کو دیکھوں

نہ مری خاک پرانی نہ ترا چاک نیا
گوزہ گر آ میں ترے دست ِ ہنر کو دیکھوں

عین آغاز ِ محبت ہوئی طاری ہجرت
یار کو دیکھوں کہ میں اپنے نگر کو دیکھوں

ہر نئے موڑ پہ ملنا ہے نیا ساتھ مجھے
ہم سفر دیکھوں کہ میں اپنے سفر کو دیکھوں

صدیق صائب

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان